01:55 , 1 مئی 2026
Watch Live

حکومت کا آئی ایم ایف کو سبسڈی ختم کرنے اور بی آئی ایس پی میں اضافہ کا اعلان

آئی ایم ایف

حکومت پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو آگاہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کی جا رہی ہے جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مالی معاونت میں اضافہ کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے عارضی اور بجٹ سے باہر سبسڈیز کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے ہدفی سبسڈی کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق مقرر کی جائیں گی، خصوصاً خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھا جائے گا۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مہنگی اور وسیع سبسڈیز سے گریز کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف اور پاکستان میں اسٹاف لیول معاہدہ، 1.2 ارب ڈالر کی منظوری متوقع

نئی پالیسی کے تحت بی آئی ایس پی کی سہ ماہی رقم جنوری 2027 سے 14 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 19 ہزار 500 روپے کر دی جائے گی تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور غریب خاندانوں کی قوت خرید بہتر بنائی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے عارضی سبسڈیز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد حکومت نے واضح کیا کہ ایسی سہولیات صرف ہنگامی حالات میں دی جائیں گی۔ اخراجات کم کرنے کے لیے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن الاؤنس میں کمی اور مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے 27 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

ان میں سے 23 ارب روپے ایک ہفتے کے لیے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو روکنے پر خرچ کیے گئے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ اس طرح کے اقدامات جاری نہیں رہیں گے۔حکومت نے زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے کھاد اور زرعی ادویات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

مزید برآں، بی آئی ایس پی کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے مزید دو لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائے گا، جس کے بعد مستفید ہونے والے خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ دو لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ ساتھ ہی تعلیمی، صحت اور ہنر مندی کے پروگرام بھی توسیع دیے جائیں گے۔حکومت نے ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت سات ملین خاندانوں کے لیے ای-والٹ متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ شفاف اور مؤثر طریقے سے رقوم کی تقسیم ممکن بنائی جا سکے

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION